
اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ نکات پارلیمنٹ، میڈیا اور عوام میں نئی بحث کا سبب بن رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ ترمیم انتظامی ڈھانچے میں بہتری، اختیارات کی وضاحت اور بعض اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔
اپوزیشن اس کے برعکس اسے عجلت میں تیار کردہ مسودہ قرار دے رہی ہے، جس میں ان کے مطابق صوبائی خودمختاری کے چند پہلو متاثر ہو سکتے ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑی آئینی تبدیلی سے پہلے وسیع مشاورت ناگزیر ہے۔
پارلیمانی کمیٹی اب تک تین سیشن کر چکی ہے، لیکن اہم دفعات پر مکمل اتفاق نہیں ہو سکا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حکومت نے مزید وضاحت اور کھلے مباحثے کی راہ اختیار کی تو پیش رفت ممکن ہے، ورنہ سیاسی دراڑیں مزید گہری ہو سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی اس ترمیم سے متعلق ٹرینڈز مسلسل چل رہے ہیں۔ حمایت کرنے والے اسے اصلاحات کی سمت قدم قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین کو خدشہ ہے کہ یہ اختیارات کے توازن کو بدل سکتی ہے۔
فی الحال یہ واضح نہیں کہ حتمی ڈرافٹ کی شکل کیا ہوگی، مگر ایک بات طے ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم آنے والے دنوں میں پاکستان کی سیاسی گفتگو کا مرکزی موضوع بنی رہے گی۔
